اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، عراقی مسلح گروپ کتائب سیدالشہداء کے سیکریٹری جنرل ابو علاء الولائی نے کہا ہے کہ ملک میں اسلحے کو منظم کرنے کا عمل مکمل اور جامع قومی خودمختاری کے حصول کے ساتھ ہی قابلِ قبول ہوگا، اس کے علاوہ کوئی بھی فارمولا مسترد کیا جائے گا۔
الولائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اسلحے کی تنظیم نو کے بدلے مکمل اور جامع خودمختاری ایک ایسی باہم جڑی ہوئی مساوات ہے جسے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسلحے کے معاملے اور ملکی خودمختاری کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا اور اس کے علاوہ پیش کیا جانے والا کوئی بھی حل قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
عراق میں اس وقت تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں دینے اور مسلح گروہوں کی صورتحال کو منظم کرنے کا معاملہ اہم سیاسی و سکیورٹی موضوع بنا ہوا ہے۔ عراقی حکام کے مطابق بین الاقوامی اتحاد کے انخلا کے بعد ملک میں اسلحے کو ریاستی کنٹرول میں لانے کا عمل شروع کیا جائے گا۔
عراقی وزیراعظم کے سکیورٹی مشیر قاسم الاعرجی نے 3 اگست کو کہا تھا کہ بین الاقوامی اتحاد کے آخری فوجی کے عراق سے انخلا کا منصوبہ 30 ستمبر تک مکمل کرنا ہے۔ ان کے مطابق اس کے بعد اسلحے کو ریاستی کنٹرول میں لانے کا عمل شروع ہوگا جبکہ مسلح گروہوں کے ساتھ مذاکرات بھی وزیراعظم کی نگرانی میں جاری ہیں۔
آپ کا تبصرہ